بھاٹی گیٹ سانحہ: لاہور لرز اٹھا، انکوائری رپورٹ میں ایس پی اور ایس ایچ او قصور وار قرار

بریکنگ نیوز

مالیات

مشہور شخصیات

موسمیاتی تبدیلی

بھاٹی گیٹ سانحے میں ماں اور بیٹی کے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے کے ہولناک واقعے پر لاہور سمیت پورا پاکستان لرز اٹھا، پولیس کے خاتون کے شوہر پر تشدد کیخلاف رپورٹ سامنے آگئی، جس میں ایس پی اور ایس ایچ او بھاٹی گیٹ کو قصور وار قرار دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور کے بھاٹی گیٹ کے قریب شورکوٹ سے تعلق رکھنے والی خاتون اپنی 9ماہ کی بیٹی کے ساتھ پہنچی تھی جس کی بچی مین ہول میں گر گئی۔ بچی گرنے کے فوری بعد خاتون نے بھی چھلانگ لگا کر بچی کو بچانے کی کوشش کی تاہم دونوں ہی جاں بحق ہوگئے تاہم اس تمام تر واقعے میں پولیس اور انتظامیہ قصور وار نکلے۔

انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی برانچ نے واقعے کی رپورٹ دینے کیلئے تھانے پہنچنے والے جاں بحق خاتون کے شوہر پر پولیس تشدد کی انکوائری مکمل کرلی ہے جبکہ تفتیشی افسران میں ایڈیشنل آئی جی عمران محمود، ڈی آئی جی ناصر عزیز ورک اور عمران کشور شامل ہیں۔

خاتون کے شوہر پر تشدد کے ملزمان میں شامل ایس پی اور ایس ایچ او نے بیان دیا کہ ایس ایس پی اور ڈی آئی جی آپریشنز نے خاتون کے شوہر غلام مرتضیٰ کی گرفتاری کا حکم دیا تھا۔ ہم نے جاں بحق خاتون کے شوہر پر ہلکا پھلکا تشدد کیا تھا۔ انکوائری میں ایس پی سٹی بلال اور تھانہ بھاٹی گیٹ کے ایس ایچ او زین کو قصور وار قرار دے دیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایس پی اور ایس ایچ او زین غلام مرتضیٰ کو جائے وقوعہ سے تھانے لائے اور ایس ایچ او کے کمرے میں لے جا کر تشدد کرتے رہے۔ دونوں افسران نے بھاٹی گیٹ سانحے کے متعلق غلام مرتضیٰ کے رشتہ داروں سے کچھ نہیں پوچھا۔ ساتھ آنے والے ایک رشتہ دار کو بھی تھانے میں بٹھا لیا گیا۔ ایس ایچ او کے کمرے میں موجود کیمرے سے ثبوت مل گئے۔

انکوائری ٹیم نے شورکوٹ جا کر جاں بحق خاتون کے شوہر غلام مرتضیٰ کا بیان بھی لیا، جسے پونے 5گھنٹے تک غیر قانونی حراست میں رکھا گیا۔ متأثرہ شخص غلام مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ پولیس مجھ پر بیوی کے قتل کا جرم قبول کرنے کیلئے دباؤ ڈالتی رہی۔ رپورٹ میں اعتراف کیا گیا ہے کہ دونوں پولیس افسران نے غیر پیشہ ورانہ طریقے سے واقعے کو ہینڈل کیا۔

یہی نہیں، بلکہ رپورٹ میں دونوں پولیس افسران کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ بھاٹی گیٹ سانحے کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے واقعے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے داتا دربار پراجیکٹ کے پراجیکٹ ڈائریکٹر سمیت پوری ٹیم کو معطل کردیا تھا، جبکہ اس واقعے پر لاہور سمیت ملک بھر میں غم و غصہ پایا جاتاہے۔

Related Posts